دہشت زدہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ڈرا ہوا، سہما ہوا، خوف زدہ۔ "وہ کچھ دیر تک دہشت زدہ وہیں کھڑا رہا۔"      ( ١٩٨٣ء، جاپانی لوک کتھائیں، ٢٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دہشت' کے ساتھ فارسی مصدر 'زدن' سے حالیہ تمام 'زدہ' بطور لاحقۂ صفت لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٩٨٣ء کو "جاپانی لوک کتھائیں" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈرا ہوا، سہما ہوا، خوف زدہ۔ "وہ کچھ دیر تک دہشت زدہ وہیں کھڑا رہا۔"      ( ١٩٨٣ء، جاپانی لوک کتھائیں، ٢٥ )